تلہ گنگ (خصوصی رپورٹ۔نذر حسین چوہدری سے) تلہ گنگ شہر میں پرانا لاری اڈہ کے سامنے کرایہ کی بلڈنگ میں واقع الممتاز ہسپتال کے خلاف لواحقین کی آہ و بکا جاری،بااثر خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ کے سامنے قانون بے بس ہو گیا ۔لاچار لواحقین کی حالت زار پر خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد ملک و عملہ کی قابل دید خوشیاں،دو بچوں سمیت تین افراد کو موت کے گھاٹ جبکہ کئی کو ہمیشہ کےلئے معذور کرنے والا ڈاکٹر ابھی تک دندناتاپھر رہا ہے ،چیف جسٹس نوٹس لیں، لواحقین سراپا احتجاج ، تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ شہر کے وسط میں واقع پرانا لاری اڈہ کے سامنے ایک کرایہ کی بلڈنگ میں قائم الممتاز ہسپتال محاورتا نہیں بلکہ حقیقتاً مقتل گاہ بن چکا ہے (خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ) ڈاکٹر نثار احمد ملک کی زیر نگرانی چلنے والے اس ہسپتال میں کئی خاندانوں کے چراغ گل کر دئیے گئے ۔ موضع سگھر کا جوان فیصل حبیب ہو یا تلہ گنگ شہر کی پھول جیسی بچی رابعہ سلیم متعدد مریضوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والا انچارج ہسپتال ڈاکٹر نثار احمد ملک نہ صرف دھڑلے سے اپنا ہسپتال چلا رہا ہے بلکہ ان واقعات کی انکوائری کرنیوالے محکمہ صحت کے آفیسر کو خاندان سمیت جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی فون پر دلوا رہا ہے ۔ تلہ گنگ کے گاﺅں سگھر کے رہائشی آصف ولد غلام حسین نے بیان حلفی دیتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے بھانجے فیصل حبیب کو لے کر علاج معالجہ کیلئے الممتاز ہسپتال میں گیا جہاں پر ڈاکٹر نثار احمد نے اس کا غلط علاج کیا جس کی وجہ سے میرے بھانجے کی حالت خراب ہوگئی جس پر ہم فیصل حبیب کو پمز ہسپتال اسلام آبادلے گئے جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گیا ۔ اس واقعہ پر ہم نے پی ایم ڈی سی اسلام آباد کو درخواست دی جس کے نتیجے میں پی ایم ڈی سی نے اپنے لیٹر نمبرF8-(DC)2008-Legal/3406 کے تحت ڈاکٹر نثار کے خلاف ہسپتال میں مریضوں کے داخل کرنے پر اور اپنے نام کیساتھ ایسے ٹائٹل استعمال کرنے پر بھی پابندی لگائی جو پی ایم ڈی سی میں رجسٹرڈ نہ ہیں پی ایم ڈی سی کے احکامات کے باوجود یہ ڈاکٹر اپنے ہسپتال میں نہ صرف مریضوں کو داخل کر رہا ہے بلکہ جعلی طور پر اپنے نام کیساتھ ماہر امراض بچگان و نوزائیدگان کا بھی استعمال کر رہا ہے جو کہ پی ایم ڈی سی کے احکامات کی سراسر خلاف وزری ہے ۔ آصف نے حکام بالا سے اپیل کی کہ مزید قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کیلئے ڈاکٹر نثاراحمد الممتاز ہسپتال تلہ گنگ کیخلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کی جائے ۔
الممتاز سپتال میں پھول جیسی بچی کی ہلاکت بارے تفصیلات بیان حلفی میں بتاتے ہوئے اسکے والد محمد سلیم ولد محمد دین ساکن منڈی مویشیاں روڈ تلہ گنگ نے کہا کہ رابعہ سلیم اسکی بیٹی تھی جس کی عمر13 سال اور وہ آٹھویں جماعت کی طالبہ تھی جس کو گلے کے ٹانسلز کا عارضہ لاحق تھا اسکے علاج کیلئے میں اپنی دختر کو ڈاکٹر نثار کے ملکیتی کلینک المعروف الممتاز ہسپتال واقع بالمقابل پرانا لاری اڈہ تلہ گنگ میں لے گیا قبل ازیں بھی مذکورہ بالا بیماری کا علاج ایک ماہ سے ڈاکٹر نثار احمد سے کروایا جارہا تھا اس شام بھی میں اپنی بیٹی کو چیک کرانے ڈاکٹر نثار احمد کے کلینک بوقت ساڑھے آٹھ بجے رات گیا تو اس نے میری بیٹی کو ہسپتال داخل کر لیا اورکہا کہ مریضہ کے گلے کا آپریشن ضروری ہے جس پر عملہ آپریشن تھیٹر میں میری بیٹی کو لے گیا ڈاکٹر نثار احمد نے بذریعہ فون دو افراد کو بلوایا اور پھر ڈاکٹر نثار احمد کی زیر نگرانی میری بیٹی کا آپریشن کردیا گیا رات دو بجے تک میری بیٹی کو آپریشن تھیٹر میں ہی رکھا اور کوئی واضح بات ہمارے بار بار اصرار پر بھی نہ بتائی اور پھر میری بیٹی کو ایک ایمبولینس منگوا کر اس میں ڈال کر کہا کہ اس کو راولپنڈی لے جائیں مریضہ کی حالت نازک ہے جب ہم لوگ موضع دھرابی چکوال رورڈ پر جارہے تھے تو میری بیٹی نے دم توڑ دیا جس پر ہم واپس آگئے ۔ میری پھول جیسی معصوم بیٹی کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹر نثار احمد ہے جس کی بدنیتی اور لاپرواہی سے میری بیٹی موت کی وادی میں چلی گئی کیونکہ مذکورہ دونوں ڈاکٹرز میں نہ تو کوئی سرجن ڈاکٹر تھا اور نہ ہی کوئی بے ہوشی کا ماہر ڈاکٹر تھا بلکہ سرے سے وہ ڈاکٹر ہی نہ تھے ۔تلہ گنگ شہر کے رہائشی سید رسول ولد محمد امیر نے بتایا کہ اس کا بھائی غلام رسول بسلسلہ روزگار ملک سے باہر ہوتا ہے اسکے 13سال معصوم بیٹے محمد صدیق کو پیٹ درد اُٹھا تو اس کو لے کرالممتاز ہسپتال آیا جہاں خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد نے اس کو اپنڈکس کا آپریشن تجویز کر دیا اور پھر آپریشن تھیٹر لے گیا جہاں سے محمد صدیق دو دفعہ بھاگ کر باہر آگیا کہ میں آپریشن نہیں کراﺅں گا لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی اور اس کا آپریشن کر دیا گیا ۔ہمیں کیا پتہ تھا کہ مسیحا کے روپ میں یہ خون خوار درندہ معصوم محمد صدیق کو نگل جائے گا ۔اور پھر آپریشن تھیٹر سے محمد صدیق کی نعش باہر آئی ظالم نے اناڑی افراد کے ہمراہ ملکر میرے بھتیجے کا غلط آپریشن کر کے اسکو موت کی نیند سلا دیا ہم پر تو قیامت ٹوٹ پڑی حکام بالاہمیں انصاف دلائیں ۔اس طرح ایک اور واقعہ میں تلہ گنگ کے موضع ڈھوک بازہ ہم کے رہائشی دین محمد نے بتایا کہ اس کے جوانسالہ بیٹے عامر عباس کو بیمار ہونے پر الممتاز ہسپتال لے کر گئے جہاں ڈاکٹر نثار نے مختلف انجکشن لگائے جس پر اس کا بائیں بازو سرخ ہو گیا خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار کو بتایا تو اس نے کہا کہ ابھی تھوڑی دیر بعد ٹھیک ہو جائے گا لیکن درد بڑھتا گیا مجبوراً ہم عامر عباس کو اسلام پمز لےکر چلے گئے جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کو غلط انجکشن لگا ہے اب اس کا بازو ناکارہ ہو گیا۔
الممتاز ہسپتال تلہ گنگ کے مالک ڈاکٹر نثار احمد نے پی ایم ڈی سی اسلام آباد کے احکامات کی دھجیاں اڑا دیں ۔ فیصل حبیب سکنہ سگھر کے کیس میں لواحقین نے پی ایم ڈی سی اسلام آباد سے رابطہ کیا تھاجنہوں نے تحقیقات کے بعد اپنے لیٹر نمبرF8-(DC)2008-Legal/3406 بتاریخ چار فروری2009کو الممتاز ہسپتال تلہ گنگ میں ہر قسم کے مریضوں کے داخل کرنے پر پابندی عائد کردی اور ڈاکٹر نثار احمد ملک کو ایسے ٹائٹل لکھنے سے بھی روک دیا گیا جو پی ایم ڈی سی اسلام آباد میں رجسٹرڈ نہ ہیں ۔ اس کے برعکس الممتاز ہسپتال میں نہ مریضوں کو داخل کیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر نثار احمد ملک نے اپنے نام کیساتھ معالج بچگان و نوزائیدگان بھی لکھ رہے ہیں جو اعلی حکام کیلئے یقینا لمحہ فکریہ ہے ۔
تلہ گنگ شہر میں موجود مشہور چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد قریشی کا ہم نام ہونے باعث ڈاکٹر نثار احمد ملک اپنے آپ کومعالج بچگان و نوزائیدگان لکھواتا ہے جس سے اکثر لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور بجائے اصل چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار کے اس کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں ۔
الممتاز ہسپتال تلہ گنگ اور اسکے مالک خود ساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد ملک کےخلاف 13سالہ رابعہ سلیم کے غلط آپریشن اور اسکی موت کی انکوائری رپو رٹ منظر عام پر آنے کے باوجود محکمہ صحت کے حکام پر جوں تک نہیں رینگی ۔محکمہ صحت ضلع چکوال کی جانب سے کی گئی اس انکوائری رپورٹ میں ڈاکٹر نثار احمد ملک اور اسکے ہسپتال الممتاز کو رابعہ سلیم کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا اور سفارش کی گئی کہ الممتاز ہسپتال کو عوام کے مفاد کی خاطر فی الفور سیل کر دیا جائے اور ڈاکٹر نثار احمد ملک اور ہسپتال عملہ کےخلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔محکمہ صحت کے ضلعی حکام کی ناہلی کے باعث اس انکوائری رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ۔تفصیلات کے مطابق تلہ گنگ شہر کی رابعہ سلیم دختر محمد سلیم کو گلے میں تکلیف کے باعث الممتاز ہسپتال تلہ گنگ میں لایا گیا جہاں الممتاز ہسپتال کے مالک خودساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد ملک نے معائینہ کے بعد آپریشن تجویز کردیا اور آپریشن تھیٹر لے گیا جہاں دو افراد کو بھی بلوا لیا جنہوں نے آپریشن کیا تو دوران آپریشن مریضہ کی حالت غیر ہو گئی جس پر ڈاکٹر نثار احمد کے ساتھ آنے والے دونوں افراد بھاگ گئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے بچی جانبر نہ ہو سکی اور اس نے دم توڑ دیا ۔لواحقین کے احتجاج پر محکمہ صحت نے مذکورہ واقعہ کی انکوائری کی اور اپنی حتمی رپورٹ نمبر 5041 31-07-2009/میں رابعہ سلیم کی موت کو قتل قرار دیتے ہوئے خودساختہ چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر نثار احمد ملک اور الممتاز ہسپتال وعملہ کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ عوام کی مفاد میں مذکورہ الممتاز ہسپتال کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے اور ہسپتال کے مالک وعملہ کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔اس واضع انکوائری رپورٹ کے باوجود نہ تو ہسپتال سیل کیا گیا اور نہ ہی ڈاکٹر نثار اور دیگر عملہ کےخلاف کوئی قانونی کاروائی ہو ئی جس پر عوامی و سماجی حلقوں اور لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف فراہم کر نے کی اپیل کی ہے ۔
الممتاز ہسپتال تلہ گنگ کے سکینڈ لزسامنے آنے کے بعد صدر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ضلع چکوال ڈاکٹر جاوید ملک نے کہا ہے کہ پی ایم اے چکوال کسی بھی ایسی سرگرمی جو غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہو اس کا قطعی دفاع نہیں کرے گی ہم اپنے پیشہ ورانہ فرائض سے مجرمانہ غفلت برتنے والے کسی بھی شخص کی پشت پناہی نہیں کریں گے ۔چاہے وہ ڈاکٹر ہی کیوں نہ ہو ۔