|
چکوال(خصو صی رپورٹ:ریاض انجم)چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے واضح احکامات کے باوجود دارالامان چکوال میں کل وقتی سپریٹنڈنٹ کی تعیناتی کی جاسکی ہے اور نہ ہی ادارہ کا گند صاف کیا جاسکا ہے چیف جسٹس کی ڈائریکشن کے مطابق فائزہ اقبال نامی آفیسر کو سپریٹنڈنٹ تعینات کیا گیا تھا جس نے دو ماہ کی تعیناتی کے دوران دارالامان جو بدکاری، جنسی تشدد، بے قاعدگیوں اور مسائل کا گڑھ بن گیا تھا کی حالت سدھارنے کی بھرپور کوشش کی فائزہ اقبال نے ادارہ کے ماتحت عملہ کی غیر اخلاقی، منفی سرگرمیوں کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو اسے شدید حراساں کیا گیا شازیہ نامی ٹیچر چھری لے کر سپریٹنڈنٹ پر چڑھ دوڑی اور معاملہ تھانہ تک جاپہنچا بعد ازاں کامران ڈرائیور ماتحت ملازم نے ادارہ میں مقیم نصرت فاطمہ نامی لڑکی کے ذریعہ فائزہ اقبال پر سنگین نوعیت کے الزامات لگوائے اور اس طرح اس کا تبادلہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کرادیا اور اب پھر سے دارالامان کا اضافی چارج گزشتہ دو سال سے تعینات سفیر صغریٰ کے سپرد کردیا گیا ہے جس کے پاس صنعت زار کا کل وقتی چارج بھی ہے واضح رہے کہ سفیر صغریٰ کے دو سالہ دور تعیناتی میں انسانیت کو شرما دینے والا گھناﺅنا دھندہ دارالامان میں کیا جاتارہا ہے ادارہ کا خود سر ڈرائیور کامران، ہینڈی کرافٹ ٹیچرشازیہ جس کا تبادلہ عارضی طور پر چوآسیدنشاہ کیا گیا ہے، نائب قاصد شبیر، چوکیدار طاہر، یاسر الطاف، اظہر اور شکیل نامی کردار دارالامان میں پناہ لینے والی مجبور، بے بس، لاچار اورمعاشرہ کی ٹھکرائی ہوئی خواتین کو جنسی طور پر حراساں کرتے، ناجائز جنسی تعلقات زبردستی استوار کرنے کی ناکامی پر انھیں نشہ آور اشیاءکھلا کر اپنے گھناﺅنے عزائم کی تکمیل کرتے اس کے علاوہ گھر سے فرار ہونے والی لڑکیوں اور تنسیخ نکاح کےلئے دارالامان میں آنے والی خواتین اور ان کے آشناﺅں سے ہزاروں روپے بٹور کر ادارہ کے اندر اور ادارہ کے باہر ان کی میٹنگز کراتے پائے گئے اس کے علاوہ موبائل فون کا استعمال بھی عام رہا ہے”تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام“کی تحقیقات کے مطابق دارالامان سرشام سے ہی سیکس کلب بن جاتارہا ہے ہینڈی کرافٹ ٹیچر شازیہ اور نائب قاصد شبیر اپنی علیحدہ محفل سجا لیتے جبکہ دیگر عملہ بھی مختلف طریقوں کے تحت لوٹ مار میں مصروف ہوجاتا ہے تحقیقات کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شازیہ نامی ٹیچر برائی کے اثرات روکنے کےلئے مانع حمل ادویات اور دائی تک کا انتظام کردیتی اور اس کے عوض ہزاروں روپے بٹورتی تھی سوشل ویلفئیر کے اعلیٰ حکام اس تمام تر صورتحال سے باخبر ہونے کے باوجود ہمیشہ بے خبر رہے ہیں اور انہوںنے برائی کادھندہ روکنے کی کوشش کی اور نہ ہی دارالامان کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھا بدی کی طاقتوں کو کھلی چھوٹ دی گئی جس سے وہ زور پکڑ گئیں خدشہ ہے کہ فائزہ اقبال کے تبادلہ کے بعد ایک بار پھر وہی ڈگر چل پڑے گی لہذا چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کی ڈائریکشن کے مطابق معاملات حل کےے جائیں تاکہ اس ادارہ میں مقیم یا آئندہ آنے والی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک نہ ہوسکے۔ سابق سپریٹنڈنٹ دارالامان چکوال فائزہ اقبال نے برائی کا نیٹ ورک توڑ کر آئندہ کےلئے بہتری کے عمل کی جانب قدم بڑھایا تھا لیکن ماتحت عملہ نے ان پر سنگین الزامات لگا کر تبادلہ کرادیا فائزہ اقبال نے اپنے تئیں برائی کو منظر عام پر لاکر نیک نامی کمائی لیکن سوسائٹی کی جانب سے ان کے حق میں کسی آواز کا بلند نہ ہونا معاشرتی بے حسی کا عکاس ہے اس ضمن میں مذہبی وشہری تنظیموں کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری دارالامان چکوال کے معاملات پر انسانی ہمدردی کے تحت ایک بار پھر نوٹس لیں اور اپنے گزشتہ احکامات پر عمل درآمد نہ کےے جانے کی بھی خبر گیری کریں عزت مآب کے احکامات پر فائزہ اقبال کی بحیثیت کل وقتی سپریٹنڈنٹ تعیناتی کے بعد کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کرائیں تاکہ معاملہ مکمل طور پر حل ہوسکے کیونکہ سوشل ویلفئیر حکام نے فائزہ اقبال کو تبدیل کرکے ایک بار پھر اضافی چارج سابق انچارج دارالامان سفیر صغریٰ کو دے دیا ہے جس کی چشم پوشی سے دارالامان جیسے ادارے کا وقار مجروح ہوا اور ماتحت عملہ بھی بے لگام ہوا عوامی حلقوں نے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے دارالامان چکوال کے معاملات پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
محکمہ سوشل ویلفئیر اینڈ وویمن ڈویپلمنٹ کے حکام کی دارالامان کے حوالہ سے مکمل خاموشی سمجھ سے بالا تر نظر آتی ہے ڈائریکٹر جنرل اور ڈسٹرکٹ آفیسر چکوال کی خاموشی دارالامان میں پنپنے والے جرائم میں ان کی شراکت داری کے مترادف لگتی ہے انچارج فائزہ اقبال کی ہال دہائی اور حقائق پر مبنی رپورٹس پر غور نہ کرنا، ماتحت کرپٹ عملہ کی بدستور دارالامان میں تعیناتی حکام کی ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی کا شاخسانہ اور ادارہ کے معاملات سے لاتعلقی نظر آتی ہے ۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ طاہر نامی چوکیدار دارالامان میں ہونے والی غلط کاریوں کا سرغنہ ہے جس کو سابق انچارج فائزہ کی رپورٹ پر معطل کیا جاچکا ہے تاہم بعض سیاسی عناصر اس کی بحالی اور پھر سے دارالامان میں تعیناتی کےلئے سرگرم ہیں اور ایک بااثر سیاسی شخصیت نے مذکورہ کرپٹ اہلکار کی بحالی کےلئے سفارش بھی کررکھی ہے عوامی حلقوں نے مذکورہ چوکیدار کو بحال نہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
دارالامان چکوال جس کا قیام 2005ءمیں عمل میں لایا گیا 2007ءمیں پہلی متاثرہ لڑکی اس کی مہمان بنی اور اب 2010ءتک محض تین سالوں میں اس کی خراب شہرت ملک بھر میں پھیل چکی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ضلع چکوال کی کوئی بھی لڑکی براہ راست اس دارالامان میں نہیں آئی بلکہ دوسرے اضلاع کی خواتین ولڑکیاں اقامت پذیر رہی ہیں محکمہ کے حکام کو خراب شہرت کے حامل اس ادارہ کا قبلہ درست کرنا چاہیے۔
سفیر صغریٰ جو صنعت زار کی کل وقتی انچارج ہیں کو گزشتہ دو سالوں سے دارالامان کا اضافی چارج بھی دیا گیا تھا سفیر صغریٰ کی عدم توجہی سے ماتحت عملہ بھی گناہوں کا سودا کرنے میں شتر بے مہار ہوگیا محکمہ کے حکام نے بھی گناہوں کے کاروبار کے پھلنے پھولنے میں سفیر صغریٰ کا کردار نظر انداز کیا ذرائع کے مطابق بے قاعدگیوں کا بستہ کھولا جائے تو چشم کشا انکشافات سامنے آسکتے ہیں۔
قارئین تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام کی اس خصوصی رپورٹ پر اپنے خیالات کا اظہار 03215473472پر ایس ایم ایس یا
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پر ای میل کر کے کرسکتے ہیں،ہمیں آپ کی آراءکا انتظار رہے گا اگر آپ کے پاس دارالامان چکوال کے حوالے سے مزید معلومات ہوں تو آپ ہمارے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں ہم آ پ کی آواز کو تلہ گنگ اپ ڈیٹس ڈاٹ کام پر خصوصی جگہ دیں گے
|